سینٹ کے چیئرمین کا الیکشن اور خفیہ کیمرے
سینٹ کے الیکشن میں کچھ ہی وقت پہلے عجیب اور دلچسپ صورتحال سامنے آگئی جب مسلم لیگ نون کے ڈاکٹر مصدق ملک اور پیپلز پارٹی کے مصطفی کھوکھر نے اچانک خفیہ کیروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں یہ تصاویر ان کے بقول الیکشن کے لئے نصب کیئے گئے پولنگ بوتھ کے آس پاس دکھائی دی گئیں ہیں ج نو منتخب سینیٹرز کا خلف تھا اس اجلاس میں ہنگاہی کھڑا ہوگیا کہ کیمرے کس نے لگائے۔ آ اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کیلئے میدان سج گیا ہے اور نئے منتخب اراکین نے حلف بھی اٹھا لیاہے لیکن پولنگ بوتھ سے کیمرے نکلنے کے انکشاف نے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے تاہم اب تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ووٹنگ کیلئے نیا پولنگ بوتھ بھی بنایا جارہاہے آج صبح ٹویٹر پر تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ بوتھ پر دو خفیہ کیمرے لگئے ہوئے ہیں جس کے بعد ایوان میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن نے پولنگ بوتھ ہی اکھاڑ دیا جس کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے فوری طور پر نیا پولنگ بوتھ بنانے اور تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا لیکن اب ایک اور پولنگ بوتھ کے باہر ایک اور کیمرہ لگے ہونے کا ا...
Comments
Post a Comment